. Universal Truth Skip to main content

Posts

Showing posts from September, 2020

Lake of Fairies

  Saiful Muluk (Urdu: جھیل سیف الملوک) is a mountainous lake located at the northern end of the Kaghan Valley, near the town of Naran in the Saiful Muluk National Park. At an elevation of 3,224 m (10,578 feet) above sea level, the lake is located above the tree line, and is one of the highest lakes in Pakistan. Lake Saiful Muluk Lake Saif ul Malook - Naran.jpg The lake is notable for its picturesque setting in the mountains of northern Pakistan Lake Saiful Muluk is located in Khyber PakhtunkhwaLake Saiful MulukLake Lake type Alpine, glacial lake Primary inflows Glacial water Primary outflows Stream (a tributary of Kunhar River) Basin countries Pakistan Surface area 2.75 km2 (1.06 sq mi) Max. depth 113 ft (34 m) Surface elevation 3,224 metres (10,577 ft)[1]  Prince Saiful Malook and Badri Jamala The Lake Saiful Muluk is named after a legendary prince. A fairy tale called Saif-ul-Muluk, written by the Sufi poet Mian Muhammad Bakhsh, talks of the lake. It tell...

اور تمھاری آخری منزل اللہ ہے...

وہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی تھی.. آنکھ کھولتے ہی ہر خواہش پوری ہونے نے اصل دینے والی ذات کی ہی پہچان نہیں کروائی...  امیری نے اسے کبھی کچھ مانگنا ہی نہیں سکھایا اپنے رب سے اور نہ وہ جانتی تھی کہ کیسا مانگا جاتا ہے اس پاک ذات سے...  وہ جب قرآن پڑھنے جایا کرتی تھی تو اک آیت کا ترجمہ اس نے پڑھا تھا جو اسے سمجھ تو نہیں آیا تھا پر وہ اس کے دماغ میں بیٹھ گیا تھا...  جب وہ چھوٹی تھی رشتوں کی محبت کی بہت قائل ہوا کرتی تھی.....  دنیاوی ہوس اور رشتوں سے بے انتہا محبت نے اسے خالقِ حقیقی سے کبھی محبت کا احساس ہی نہیں دلایا... وقت کا پہیہ آہستہ آہستہ گھومتا ہوا اس کی زندگی کو بھی گھوما دے گا اسے اندازہ نہیں تھا...وہ اس بات سے بے خبر تھی اللہ عزوجل کو چھوڑ کر کھبی کوئی محبت نہ حاصل ہوتی ہے اور نہ فائدہ دیتی ہے... خیر اپنوں کی محبت کے مان نے اسے جس طرح عرش پر پہنچایا تھا... یہی مان اسے بےدردانہ طریقے سے فرش پر پٹخے گا اس نے کبھی  سوچا نہیں تھا... وہ نادان لڑکی یہ بات کہاں جانتی تھی کہ "اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہوتا ہے... اس کی محبت کے عروج کے زوال کا وقت ...

زیادتی اور بے قصور عورت

آج کل جنسی زیادتی کی شرح میں بے حد اضافہ ہو رہا ہے جس سے آپ سب ہی واقف ہیں...  اسےہم  مردوں کی ہوس کا نتیجہ کہتے ہیں جس کی بھینٹ کبھی آٹھ دن کی بچی،تو کبھی 7 سال کی بچی جو چیز لینے گھر سے نکلتی ہے اور واپسی پر اس کی لاش کو لایا جاتا ہے... کبھی ایک چھٹی جماعت میں پڑھنے والی طلبہ چڑھتی ہے تو کبھی چار بچوں کی ماں اور خواجہ سرا بھی اس زیادتی سے نہیں بچ سکے.... یہاں تک کہ نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ایک جسم کا بھوکا مرد قبر سے عورت کی لاش نکال کر اپنی ناپاک آرزو کو پورا کرتا ہے...یہ بے قصور عورتیں زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتار دی جاتیں ہیں... کوئی عورت اب اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھ سکتی... اللہ نے تمام مذاہب سے زیادہ اسلام میں عورت کو عزت بخشی ہے اور اللہ اور اس کے مذہب کو ماننے والے بندے آج عورت کی عزت کو جگہ جگہ روند رہے ہیں... مرد میں اتنی ہوس کہاں سے اور کیوں آتی ہے...؟؟؟ ہر انسان کا سوچنے سمجھنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہے... میرے خیال میں ہوس پرستی آج کے دور میں سب سے بڑی وجہ سر عام ہونے والی بے حیائی ہے... جب سے نئ نسل نے خاص طور پر  لڑکیوں نے ماڈرنیزم کا پرچم بلند...