. Universal Truth Skip to main content

Posts

Showing posts from July, 2020

Lake of Fairies

  Saiful Muluk (Urdu: جھیل سیف الملوک) is a mountainous lake located at the northern end of the Kaghan Valley, near the town of Naran in the Saiful Muluk National Park. At an elevation of 3,224 m (10,578 feet) above sea level, the lake is located above the tree line, and is one of the highest lakes in Pakistan. Lake Saiful Muluk Lake Saif ul Malook - Naran.jpg The lake is notable for its picturesque setting in the mountains of northern Pakistan Lake Saiful Muluk is located in Khyber PakhtunkhwaLake Saiful MulukLake Lake type Alpine, glacial lake Primary inflows Glacial water Primary outflows Stream (a tributary of Kunhar River) Basin countries Pakistan Surface area 2.75 km2 (1.06 sq mi) Max. depth 113 ft (34 m) Surface elevation 3,224 metres (10,577 ft)[1]  Prince Saiful Malook and Badri Jamala The Lake Saiful Muluk is named after a legendary prince. A fairy tale called Saif-ul-Muluk, written by the Sufi poet Mian Muhammad Bakhsh, talks of the lake. It tell...

اللہ اور آج کا انسان

انسان!!!  اس لفظ پر جتنا اور جس بھی انداز سے لکھا جائے میرے خیال میں تب بھی اس کی تشریح ممکن نہیں... کہنے کو انسان اپنے آپ کو عاجز اور ہر دوسرے انسان کو منافق سمجھتا ہے... میرے خیال میں ہر شخص میں کہیں نا کہیں منافقت کا مادہ پایا جاتا ہے...جس طرح ہمارا ظاہر دنیا کے سامنے ہوتا ہے اگر ایسے ہی ہمارا باطن بھی ظاہر ہو جائے تو میرا نہیں خیال کہ کوئی ذی روح بھی ہم انسانوں کی طرف دیکھنا گوارہ  کرے گی ...  ہم کدورتوں کے بھی اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ دل میں زہر رکھ کر زبان سے شریں گفتگو کرنے کو اک بہت اچھا فعل سمجھتے ہیں...  دیکھا جائے تو ہر شخص کبھی نا کھبی موقع ملنے پر اپنے سے کم تر پر رعب جمانے اور اپنے باطن کی فرعونیت ظاہر کرنے کی کی کوشش کرتا ہےاور پھر لوگوں کے سامنے یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس جیسا عاجز و انکسار شخص کرہ ارض پر نہیں پایا جاتا ہے....  جانتے ہو اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو بنانے کے بعد انسان کی تخلیق کا ذکر جب فرشتوں سے کیا تو انہوں نے اللہ پاک سے کیا کہا...  اے اللہ پاک!!! آپ ایسا شخص بنانے لگے ہیں جو زمین پر فساد برپا کرے گا اور خون بہاۓ گا؟؟؟...

زندگی اک سزا

ہسپتال میں بستر مرگ پر وہ لاوارثوں کی طرح پڑی تھی. اسے معلوم تھا کہ وہ زندگی کی آخری چند سانسیں لے رہی ہے. نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ اپنی زندگی کے دلکش اور تلخ لمحات کو یاد کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگ رہی تھی. تسلسل کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے. کچھ تھا جو اس کے اندر توڑ پھوڑ کر رہا تھا. ایک وقت تھا جب وہ گھر میں اکلوتی ہونے کی وجہ سے سب کو بہت پیاری تھی. اسے نہیں یاد پڑتا کہ اس کی کوئی خواہش ایسی تھی جو پوری نہ ہوئی ہو. وہ اس کی زندگی کے خوبصورت ترین لمحے تھے. جوانی کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وہ پہلے سے زیادہ نکھرتی اور کِھلتی جارہی تھی، بالکل کسی "مہکتی کلی" کی طرح... پر کسی کو اس دردناک حقیقت سے آشنائی نہ تھی کہ مہکتی کلیوں کو لوگ اپنے ہاتھوں کچل  دیتے ہیں... اپنے شہر کی سب سے اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لینا اس کا خواب تھا جو اس کے بھائیوں نے حقیقت میں بدل دیا. کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کے خواب کی تعبیر اتنی پراسرار ہو گی... سب کی مدد کرنا اور کام آنا اسے بہت پسند تھا.وہ کلاس میں بھی سب کی مدد کیا کرتی تھی لیکن اس دوران وہ کب کلاس کے اک آوارہ لڑکے کے عشق میں گرفت...

زندگی اک غم کا دریا

آج اسے روڈ پہ بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو اسکی زندگی کی روداد ذہن میں آئی... کہنے کو اس کے چھے بچے تھے جن کی وجہ سے اس نے دنیا سے لڑکر بیوگی کی زندگی گزاری تھی... سب سے چھوٹا بیٹا اپنے باپ کے مرنے کے بعد دنیا میں آیا. گھر والوں کے بے حد اسرار کے باوجود وہ خاوند کے گھر سے نہ گئ.سب نے اسے سمجھایا کہ وہ جوان بیوہ ہے کس طرح گزارے گی یہ پہاڑ جیسی زندگی؟؟؟ اس نے سب کو صاف انکار کر دیا کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے... اس نے کہا کہ اللہ کی ذات ہے اس کی اور اس کے بچوں کی کفالت کے لیے... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے... اس کے لیے اکیلے بچوں کو پالنا بہت مشکل تھا لیکن وہ خوددار اتنی تھی کہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے... زندگی نے اسے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے... اس کے لیے زندگی بہت مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی تھی... اس نے بچوں کی کفالت کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا... دنیا والوں کی کھاتی نظریں اسے چبھا کرتی تھیں لیکن اس نے بچوں کے لیے یہ بھی برداشت کر لی...قدرتی طور پر اس میں صبر کا پیمانہ زیادہ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ زندگی نے اتنے ہی کٹھن امتحان لیے.... وق...

سنتِ ابراہیمی اور آج کا انسان

ہمارے معاشرے میں عید قربان کو صرف جانوروں کی قربانی سے منسلک کیا جاتا ہے...ہم لوگ تصویر کا ایک رخ تو دیکھتے ہیں کہ ذوالحج میں ہم نے استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہے لیکن اس لفظ "قربانی" کا مطلب ہم گہرائی میں جا کر نہیں سوچتے کہ اس میں ہمارے لئے کیا سبق اور پیغام ہے اللہ عزوجل کی طرف سے... میرے خیال میں اس واقعہ سے سب ہی واقف ہوں گے کہ قربانی کا آغاز کیسے اور کہاں سے ہوا؟؟؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام  جو کہ خلیل اللہ (اللہ کے دوست) کے لقب سے آشنا ہیں ...انہوں نے تین روز تک ایک ہی خواب دیکھا جس میں وہ اپنے لاڈلے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں... پہلے دن انہوں نے اسے صرف خواب سمجھا لیکن جب مسلسل وہی خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اللہ کی طرف پیغام آگیا ہے... چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا... حضرت ابراہیم علیہ السلام چاہتے تو اپنے خواب کو صرف خواب سمجھ کر نظر انداز کر سکتے تھے یا یہ کہہ سکتے تھے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بہت چھوٹے ہیں(انا کو بیچ میں لاسکتے تھے) ... لیکن نہیں...؟؟ ان...

غیبت

نیم بے ہوشی میں جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو ایک انجان سی جگہ پر پایا...اس نے تھوڑی ہمت کر کے اٹھنا چاہا لیکن اسے اپنا وجود بہت بوجھل لگا... اس کے ساتھ ہی اسے اپنے ہاتھ خون میں لت پت لگے اور اسے محسوس ہوا کہ  اسکے آگے کوئی بےجان چیز پڑی ہوئی ہے اس نے جب دیکھا تو کوئی مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا .. مردے کو دیکھ کر اس کے پاؤں سے زمین نکل گئی ... ابھی اس کا جسم خوف سے لرز رہا تھا کہ اچانک ہی وہ برے طریقے سے اس مرے ہوئے انسان کا گوشت کھانے لگ گئی پر وہ یہ بات سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ انسانی گوشت کیوں اورکیسے کھاۓ جا رہی تھی...اس وقت وہ اپنے آپ کو دنیا کا ایک سب سے زیادہ بےبس انسان محسوس کررہی تھی... آج وہ جس شخص کو کسی بھوکے شیر کی مانند کھاۓ جارہی تھی وہ اس کا آشنا چہرہ تھا... اس نے مردے کی شناخت کرنے کی کوشش کی اور چہرہ پہچاننے پر وہ تڑپ اٹھی ... اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ اس کا ہی وجود تھا جو اپنے  ہی سگے بھائی کو نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہا تھا؟؟؟ ایک لمحے کو اسے محسوس ہوا کہ وہ بھی مر جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا...وہ اپنے بھائی کا گوشت ایک خونخوار درندے کی طرح کھاتی گئی...

بے چینیِ قلب

ہمارے ہاں... جب ایک بچہ پرورش پاتا ہے تو اسے سب سے پہلے دنیا سے محبت سکھائی جاتی ہے ....اسے کہنے کی حد تک اللہ کا ذکر تو سکھایا جاتا ہے لیکن اسے اس رب العزت سے محبت نہیں سکھائی جاتی...   جنت اور جہنم کے بارے میں بتایا جاتا ہے اسے یہ نہیں کہا جاتا کہ اللہ اور اس کے نبی کی محبت اور سنتوں پر عمل زندگی کا حصول ہے.  اسے یہ نہیں بتایا جاتا کہ دنیا کی محبت ایک تاریک سرنگ ہے جس میں داخل ہو کر انسان سب دیکھتا، سنتا اور بولتا تو ہے لیکن حقیقت میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے...جیسا کہ قرآن پاک میں (ہم جیسوں) دنیا کے پجاریوں کا ذکر کچھ یوں کیا گیا ہے  "یقیناً آنکھیں اندھی نہیں دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں" (الحج)  ہمارے معاشرے میں بچے کے ذہن میں نماز صرف ایک فرض ہے کے طور پر ڈالی جاتی ہے محبت کے طور پر نہیں ... اس معاملے میں، میں ماؤں کے کردار کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ دنیاوی تعلیم کے لئے بچوں پر بہت محنت کرتیں ہیں لیکن دینی تعلیم پر نہیں... یہی بچہ جب عمر کی منزلوں کو طے کرتا ہے تو سب سے زیادہ جس بات کی مشکل درپیش آتی ہے وہ ہوتی ہے "دل کی بےچینی" ہو بھی تو کی...