. Universal Truth Skip to main content

Posts

Lake of Fairies

  Saiful Muluk (Urdu: جھیل سیف الملوک) is a mountainous lake located at the northern end of the Kaghan Valley, near the town of Naran in the Saiful Muluk National Park. At an elevation of 3,224 m (10,578 feet) above sea level, the lake is located above the tree line, and is one of the highest lakes in Pakistan. Lake Saiful Muluk Lake Saif ul Malook - Naran.jpg The lake is notable for its picturesque setting in the mountains of northern Pakistan Lake Saiful Muluk is located in Khyber PakhtunkhwaLake Saiful MulukLake Lake type Alpine, glacial lake Primary inflows Glacial water Primary outflows Stream (a tributary of Kunhar River) Basin countries Pakistan Surface area 2.75 km2 (1.06 sq mi) Max. depth 113 ft (34 m) Surface elevation 3,224 metres (10,577 ft)[1]  Prince Saiful Malook and Badri Jamala The Lake Saiful Muluk is named after a legendary prince. A fairy tale called Saif-ul-Muluk, written by the Sufi poet Mian Muhammad Bakhsh, talks of the lake. It tell...

ایک صدی

آنے والے وقتوں میں مؤرخ لکھے گا کہ ماضی میں ایک صدی ایسی بھی گزری جس کے لوگ خدا کو صرف رب زبان سے مانا کرتے تھے جبکہ بے خبری میں خود خدائی کے دعویٰ پر زندگی گزار رہے تھے... اس صدی کے نوجوان لڑکے مساجد کا رخ بروز جمعہ کیا کرتے تھے...اور نوجوان لڑکیاں "میرا جسم میری مرضی" کا نعرہ سربلند کرتی دکھائی دیتی تھیں... وہ لوگ بےحیائی کو "ماڈرنیزم" کہا کرتے تھے... لوٹ مار، حق تلفی، زنا، دھوکہ دہی، غداری، بے ایمانی، ناانصافی یہ سب بہت عام تھا اس دور عصر میں... عدل وانصاف، ایمانداری، میانہ روی عزت و احترام . نیز اس جیسے تمام لفظوں سے کم ہی لوگ واقف رہ گئے تھے... جس کو جہاں موقع ملتا اپنے سے کمتر پر رعب جماتا اور اپنے سے بہتر کی چاپلوسی کرتا...اس قوم کو علم ہی نا تھا کہ وہ کامیابی کی طرف نہیں بلکہ تباہ و بربادی کی طرف جا رہے تھے... اس صدی کے لوگ دنیاوی ہوس کے دلدل میں اس قدر دھنستے جا رہے تھے کہ وہ "انا اللہ علی کل شیءٍ قدیر" کو بھی بھول بیٹھے تھے... وہ بھول بیٹھے تھے کہ اوپر جو رب العزت بیٹھا ہے اس کی "لاٹھی بے آواز ہے"... اس صدی میں دنیا خود کو جتنا کامیاب...

خوبصورت جھیل

ہم اکثر کہتے ہیں کہ دوسروں کو مطمئین کرنا بہت زیادہمشکل ہے لیکن میرے خیال میں اپنے آپ کو، اپنی ذات کو مطمئین کرنا سب سے زیادہ مشکل کام ہے.... اپنی زندگی میں انسان جو بھی جنگ لڑتا ہے چاہے وہ محبت کی ہو یا پھر دنیاوی وہ کبھی نہ کبھی ختم ہو جاتی ہے لیکن اپنی ذات سے لڑی جانے والی جنگ واحد ایسی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی... یہ جنگ انسان کو ہمیشہ الجھا کے رکھتی ہے... بظاہر تو ہم ایک انسان کو ہمیشہ خوش، ہنستا، مسکراتا دیکھتے ہیں لیکن ہم کبھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ وہ اپنی زندگی سے کیسے لڑ رہا ہے... انسان کی سوچیں اسے ایک بھنور میں لے جاتی ہے اور وہ ہچکولے کھاتا کبھی ڈوبنے لگتا ہے اور کبھی ساحل کنارے آجاتا ہے...ایسے لوگ کس کرب سے گزرتے یہ صرف وہ اور ان کا رب جانتا ہے.... جانتے ہو ایسے لوگوں کا دل کیسا ہوتا ہے؟؟؟  ایسے لوگوں کا دل ایک بہت "خوبصورت جھیل" کی مانند ہوتا ہے... لیکن پتہ ہے ہم لوگ کیا کرتے ہیں؟؟؟ ہم اس جھیل نما دل میں پوری قوت کے ساتھ پتھر پھینک کر اس کی گہرائی ماپنے کی اک ناکام کوشش کرتے ہیں... پر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس پتھر نے  پر سکون جھیل میں کتنی ہلچل مچا دی ہوگی ...

امید

امید.. امید... پڑھنے میں کتنا آسان اور سادہ سا لفظ ہے پر دیکھا جائے تو لوگوں کی زندگی کا تسلسل اس لفظ پر منحصر ہے... لوگ اکثر کہتے ہیں فلاں شخص یا عزیز نے دھوکا یا تکلیف دی لیکن میرے خیال میں دھوکا یا تکلیف ہمیں عزیز رشتے یا لوگ نہیں دیتے بلکہ ان سے جڑی امیدیں ہمارا سینہ چھلنی کرتی ہیں..امید اور یقین بیساکھی کی مانند کردار ادا کرتے ایک انسان کی زندگی میں یعنی ان کے بغیر کسی بھی مقام پر لڑکھڑا سکتا ہے... اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اکثر اوقات امیدیں انسان کو مایوس کردیا کرتی ہیں...  جانتے ہو وجہ کیا ہے؟؟؟ وجہ یہ ہے کہ جب ایک انسان اپنے دامن سے ہاتھ پاؤں باہر کر کے کسی کی آس لگا کر بیٹھے گا تو پھر وہ آس اسے پریشان ہی کرے گی... ہم کم عقل لوگ ہوتے ہیں اپنی سوچوں میں امیدوں کے پل باندھ کر اس پر چلنے کی بھی نہیں بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب بھاگتے ہوئے لڑکھڑاتے یا گرتے تو اس کا قصوروار خود کو نہیں اللہ کو ٹھراتے ہیں کہ اس نے ہماری امیدوں کا پل توڑا ہے... ❤️ امید اور یقین کا ایک کمزور پہلو یہ بھی ہے کہ ہم انسانوں سے بے تحاشا امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور اس سب میں ہم اللہ رب ا...