آج اسے روڈ پہ بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو اسکی زندگی کی روداد ذہن میں آئی... کہنے کو اس کے چھے بچے تھے جن کی وجہ سے اس نے دنیا سے لڑکر بیوگی کی زندگی گزاری تھی... سب سے چھوٹا بیٹا اپنے باپ کے مرنے کے بعد دنیا میں آیا. گھر والوں کے بے حد اسرار کے باوجود وہ خاوند کے گھر سے نہ گئ.سب نے اسے سمجھایا کہ وہ جوان بیوہ ہے کس طرح گزارے گی یہ پہاڑ جیسی زندگی؟؟؟ اس نے سب کو صاف انکار کر دیا کسی اور سے نکاح کرنے کے لیے... اس نے کہا کہ اللہ کی ذات ہے اس کی اور اس کے بچوں کی کفالت کے لیے... وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے... اس کے لیے اکیلے بچوں کو پالنا بہت مشکل تھا لیکن وہ خوددار اتنی تھی کہ کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے...
زندگی نے اسے اپنے رنگ دکھانا شروع کر دیے... اس کے لیے زندگی بہت مشکل سے مشکل ہوتی جا رہی تھی... اس نے بچوں کی کفالت کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام شروع کر دیا... دنیا والوں کی کھاتی نظریں اسے چبھا کرتی تھیں لیکن اس نے بچوں کے لیے یہ بھی برداشت کر لی...قدرتی طور پر اس میں صبر کا پیمانہ زیادہ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ زندگی نے اتنے ہی کٹھن امتحان لیے....
وقت کا پہیہ آہستہ آہستہ چلتا رہا اور اس کے بچوں نے جوانی میں قدم رکھا. اس کے حالات بدلتے گئے... گھر میں خوشحالی آتی گئی... اس کے بیٹوں نے گھر کو سنبھال لیا....اللہ کے کرم سے اس نے اپنے بچوں کی شادی کی... بہت انتظار کے بعد اس نے اچھے دن دیکھے... اب بڑھاپا آ پہنچا تھا...
پھر زندگی کے ایک اور چیپٹر کا آغاز ہوا جس نے اس کی محنت، ہمت، حوصلے کو توڑ کر رکھ دیا....
ہوا کچھ یوں کہ جوں جوں وہ بوڑھی ہوتی جارہی تھی اسے اپنے بیٹوں اور بہوؤں کے رویے بدلتے محسوس ہوۓ، اس نے نظرانداز کرنا شروع کر دیا... وقت گزرتا گیا لیکن ان سب کے موڈ دن با دن بگڑتے جارہے تھے ان کو دیکھتے ہوئے اس نے خاموشی کی چادر اوڑھ لی...
پھر اک دن ایسا آیا جب اس کی زندگی بھر کی محنت رائیگاں گئ... جن کے لئے اس نے دنیا کی ٹھوکروں کو سر جھکا کر جھیلا تھا آج انہوں نے ہی ٹھوکر مار دی... اسکے بچوں نے اسے گھر سے نکال دیا اور اس بڑھاپے میں زمانے کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا تھا... اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ہوکیا گیا تھا اس کے ساتھ؟؟؟
آج اس ماں کو رلتے ہوئے دیکھا تو میرا دل پھٹنے پر آگیا اور میرے ذہن نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ جن کے لئے اس نے زمانے کی گندی اور چھبتی نظروں کی پرواہ نہیں کی تھی صرف اس لئے کہ اس کے بچے سکوں سے زندگی گزار سکیں... آج انہوں نے ہی اس کی زندگی کو بےسکوں کردیا...
ساری زندگی خودداری میں جس نے گزاری تھی اور آج بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیا گیا اسے؟؟؟ کیا یہ تھا اس کی زندگی بھر کی محنت کا صلہ؟؟؟ اس نے زمانے سے لڑکر چھے بچوں کو پال لیا کیا ان سے اک بوڑھی ماں نہ پالی گئ؟؟؟ کیا زندگی اتنی تلخ حقیقت اور غم کے دریا کا نام ہے.....
از قلم ندا نثار ❤️
Uffff zbrdst
ReplyDelete