نیم بے ہوشی میں جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو ایک انجان سی جگہ پر پایا...اس نے تھوڑی ہمت کر کے اٹھنا چاہا لیکن اسے اپنا وجود بہت بوجھل لگا... اس کے ساتھ ہی اسے اپنے ہاتھ خون میں لت پت لگے اور اسے محسوس ہوا کہ اسکے آگے کوئی بےجان چیز پڑی ہوئی ہے اس نے جب دیکھا تو کوئی مردہ حالت میں پڑا ہوا تھا .. مردے کو دیکھ کر اس کے پاؤں سے زمین نکل گئی ... ابھی اس کا جسم خوف سے لرز رہا تھا کہ اچانک ہی وہ برے طریقے سے اس مرے ہوئے انسان کا گوشت کھانے لگ گئی پر وہ یہ بات سمجھ نہیں پارہی تھی کہ وہ انسانی گوشت کیوں اورکیسے کھاۓ جا رہی تھی...اس وقت وہ اپنے آپ کو دنیا کا ایک سب سے زیادہ بےبس انسان محسوس کررہی تھی... آج وہ جس شخص کو کسی بھوکے شیر کی مانند کھاۓ جارہی تھی وہ اس کا آشنا چہرہ تھا...
اس نے مردے کی شناخت کرنے کی کوشش کی اور چہرہ پہچاننے پر وہ تڑپ اٹھی ... اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ اس کا ہی وجود تھا جو اپنے ہی سگے بھائی کو نوچ نوچ کر کھاۓ جا رہا تھا؟؟؟
ایک لمحے کو اسے محسوس ہوا کہ وہ بھی مر جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا...وہ اپنے بھائی کا گوشت ایک خونخوار درندے کی طرح کھاتی گئی اور ساتھ ہی وہ اپنے ماضی کا محاسبہ کرنے لگی اسے یاد نہیں پڑ رہا تھا کہ اس نے اپنی زندگی میں حقوق اللہ یا حقوق العباد میں کوئی کوتاہی برتی ہو پھر اسے کس غلطی یا گناہ کی سزا دی جا رہی ہے؟؟؟ ابھی یہ باتیں اس کے ذہن میں گردش کر ہی رہی تھی کہ وہ لفظ "گناہ" پر جا رکی...
اسی وقت اسے وہ آیت یاد آگئی جو وہ اکثر سن کر نظر انداز کر دیتی تھی
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمۡ اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحۡمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا فَکَرِہۡتُمُوۡہُ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲ الحجرات﴾
اے لوگوجوایمان لائے ہو!بہت گمان کرنے سے بچو،بلاشبہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور جاسوسی نہ کرواورتم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے،کیاتم میں سے کوئی پسند کرتاہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کاگوشت کھائے؟سوتم اُس کوناپسندکرتے ہواور اللہ تعالیٰ سے ڈرو یقیناًاللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا،نہایت رحم والاہے۔
اسے وہ وقت بھی یاد آیا کہ وہ کس طرح گھنٹوں گھنٹوں لوگوں کی غیبت اور جاسوسی میں مصروف رہتی تھی جس کی سزا آج وہ ایسے بھگت رہی ہے...وہ اللہ کے حضور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے بلک بلک کے رو دی تھی کہ شاید اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول کرکے اس پر رحم فرمادے....
اللہ پاک ہم سب کو اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے.. آمین
ندا نثار ❤️
❤️
ReplyDelete❤
ReplyDeleteRealiTy <3 veRy deep thought.....
ReplyDeleteWoah🤐😓
ReplyDeleteAmeen... jazakAllah ..👏👏👌👌👌👌
ReplyDeleteAmeen... jazakAllah ..👏👏👌👌👌👌
ReplyDeleteAmeen... jazakAllah ..👏👏👌👌👌👌
ReplyDeleteبہترین
ReplyDeleteWah fabulous superb ❤️💖
ReplyDeleteAameen summa Aameen reality of life what a line's wow superb
ReplyDeleteAameen
ReplyDeleteReality zabardast
ReplyDeleteWell said
ReplyDeleteWell said
ReplyDeleteSab sy phely amen 🙏 aur us k bad bHt e umda 👌📝 is bar apny Quran ka shra ly k apni in haqeer si sitro mein 4 chand lgay ha 🌓 Agr is mein koi galti h jo prhny sy hm kasir h Allah pak apny kram sy hmy maf krein 😇 aur khas toor py apko asi aur b tofik dy k ap asan ilfazo m hm jesy kam aqal logo ko zindgi ki haqiqat sy agha rakhein Amen 🙏
ReplyDelete❤️
DeleteAmeen😇
ReplyDeleteKaaammmaaaLLLLL🥀😍❤️🔥🔥🔥🔥
ReplyDeleteGreat
ReplyDeleteWell written content I Must say..i like the way you written it..
ReplyDeleteYou may also visit to my blog by clicking below..
Dr. Kumar Vishwas
👍❤️😢
ReplyDeleteSuperb
ReplyDelete🌹🌹
ReplyDeleteNyc and very deep
ReplyDeleteAmen! Asalamalaikum
ReplyDeleteNice
ReplyDeleteAmeen may Allah ptotects us from all bad things
ReplyDeleteAmeen
ReplyDeleteAmeeeen,very creative writing ,your writing style is very impressive,may Allah give you more energy for this struggle ,,
ReplyDeleteMasha Allah 👍👍👍👍beautiful
ReplyDeleteAllah hum aub ko aisee batoo say bacnay ke tofeeq ata farmay
Ameeeeeeeeeeeeeeeen
Sum Ameeeeeeeeeeeeeeeen
Reality
ReplyDeleteReality😞
ReplyDeleteAmeen.. bht khoob 👌
ReplyDeleteSo nice and so deep😢
ReplyDeleteNice
ReplyDeleteBeautifully written.
ReplyDeleteبہت اعلیٰ آپ کی تحریر پر ایک شعر یاد آ رہا ہے..
ReplyDeleteجو کھلی کھلی تھی عداوتیں مجھے راس تھیں
یہ جو ذہر خندہ سلام تھے مجھے کھا گئے
Speechless 😶
ReplyDeleteWhat a inspiring story 🥺😍
ReplyDelete