ہمارے معاشرے میں عید قربان کو صرف جانوروں کی قربانی سے منسلک کیا جاتا ہے...ہم لوگ تصویر کا ایک رخ تو دیکھتے ہیں کہ ذوالحج میں ہم نے استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہے لیکن اس لفظ "قربانی" کا مطلب ہم گہرائی میں جا کر نہیں سوچتے کہ اس میں ہمارے لئے کیا سبق اور پیغام ہے اللہ عزوجل کی طرف سے...
میرے خیال میں اس واقعہ سے سب ہی واقف ہوں گے کہ قربانی کا آغاز کیسے اور کہاں سے ہوا؟؟؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام جو کہ خلیل اللہ (اللہ کے دوست) کے لقب سے آشنا ہیں ...انہوں نے تین روز تک ایک ہی خواب دیکھا جس میں وہ اپنے لاڈلے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہیں... پہلے دن انہوں نے اسے صرف خواب سمجھا لیکن جب مسلسل وہی خواب دیکھا تو سمجھ گئے کہ اللہ کی طرف پیغام آگیا ہے...
چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کر لیا...
حضرت ابراہیم علیہ السلام چاہتے تو اپنے خواب کو صرف خواب سمجھ کر نظر انداز کر سکتے تھے یا یہ کہہ سکتے تھے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام بہت چھوٹے ہیں(انا کو بیچ میں لاسکتے تھے) ... لیکن نہیں...؟؟ انہوں نے اپنی محبت ( یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام)کو اللہ کی محبت کے آگے قربان کرنے کا فیصلہ کر لیا.... ❤️
وجہ کیا. تھی؟؟انہیں اللہ سے محبت اور اسکے ہر حکم پر جھکنا سکھایا گیا تھا ❤️
اللہ کے رسول اور نیک لوگ لفظ غرور اور انا سے واقفیت نہیں رکھتے جیسے آج کل کے لوگ قربانی اور تقویٰ سے واقف نہیں ہیں...
جب انہوں نے اس کا ذکر حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کیا تو انہوں نے کہا کہ بابا جان آپ مجھے اس آزمائش میں ثابت قدم پائیں گے... سبحان اللہ ❤️
یہ اللہ سے ان کی محبت اور عاجزی کا ثبوت تھا کہ انہوں نے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ارادہ کیا...
پر اب؟؟؟؟
دورِ عصر میں رشتوں میں مٹھاس تو رہی ہی نہیں ہے اور عاجزی لفظ کے مفہوم سے چند لوگ ہی واقف رہ گئے ہیں... اب ہر دوسرا شخص اپنے قریبی رشتوں کو اپنی انا کے ہاتھوں قربان کیے ہوئے بیٹھا ہے 💔 ہر شخص چاہتا ہے اس کی انا، غرور قائم رہے اور دوسرا جھکے پہلے... 😶
لَنۡ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوۡمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا وَ لٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقۡوٰی مِنۡکُمۡ ؕ
اللہ تعالیٰ کونہ کبھی ان کا گوشت پہنچتاہے اورنہ ہی ان کا خون بلکہ اللہ تعالیٰ کوصرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے،
الحج37
لوگوں نے قربانی لفظ "جانوروں کو اللہ کی راہ میں ذبح" کرنے سے اخذ کر لیا ہے... اللہ ہماری قربانی کو نہیں نیتوں کو دیکھتا، وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ہم نے اونٹ قربان کیا بکرہ وہ یہ دیکھتا کہ ہم نے ناراضگی کے باوجود قرابت داروں کو اس میں شامل کیا...
قربانی ہمیں بہت سے نصیحت آموز سبق سکھاتی اگر ہم سچے دل سے اس کا مفہوم سمجھیں تو...
قربانی جہاں ہمیں سنتِ ابراہیمی کا ایک ظاہر پہلو دکھاتی ہے وہیں دوسری طرف یہ سبق بھی دیتی ہے اگر کا قرب اور محبت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں لفظ قربانی اور عاجزی اپنی زندگیوں میں شامل کر لینا چاہیے.... ہمیں خود کو اللہ کی ذات سے جوڑ لینا چاہیے... ❤️
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۶۲﴾ۙ
آپ کہہ دیں: بے شک میری نما زاورمیری قربانی اورمیرا جینا اور میرا مرنااللہ کے لیے جوجہانوں کا رب ہے۔
الانعام: 162
جزاک اللہ خیر...
ندا نثار ❤️
Amazing😇❤🔥
ReplyDeleteMasha Allah
ReplyDeleteMashaallah ♥️
ReplyDeleteExactly,aisa e hai ,ye Qurbani ka jazba hamen sara saal apni Zaat k sath rakhna chaiye, achi soch hai apki,
ReplyDeleteعمدہ تحریر,😍😍
ReplyDeleteWords... Jazaak Allah
ReplyDeleteAmazing 💕💕
ReplyDeleteOUtstaNdiNg🥀👌🏻😍♥️
ReplyDelete👌💓💓
ReplyDelete❤👏
ReplyDelete❤❤
ReplyDelete👏👏
ReplyDeleteMa Sha Allah♥️
ReplyDeleteبہت اچھی تحریر ہے
ReplyDeleteAmazing 😘
ReplyDeleteزبردست 👌👌
ReplyDeleteSuperb
ReplyDeleteGood note👍
ReplyDeleteMasha Allah
ReplyDeleteBilkul.. 👏👏👍
ReplyDeleteBilkul.. 👏👏👍
ReplyDeleteBilkul.. 👏👏👍
ReplyDelete♥️👌
ReplyDeleteBeshaq
ReplyDeleteNice
ReplyDeleteبہت ہی اچھی تحریر
ReplyDeleteReally 👍 amazing..
ReplyDeleteGood efforts😍❤️
ReplyDelete