Saiful Muluk (Urdu: جھیل سیف الملوک) is a mountainous lake located at the northern end of the Kaghan Valley, near the town of Naran in the Saiful Muluk National Park. At an elevation of 3,224 m (10,578 feet) above sea level, the lake is located above the tree line, and is one of the highest lakes in Pakistan. Lake Saiful Muluk Lake Saif ul Malook - Naran.jpg The lake is notable for its picturesque setting in the mountains of northern Pakistan Lake Saiful Muluk is located in Khyber PakhtunkhwaLake Saiful MulukLake Lake type Alpine, glacial lake Primary inflows Glacial water Primary outflows Stream (a tributary of Kunhar River) Basin countries Pakistan Surface area 2.75 km2 (1.06 sq mi) Max. depth 113 ft (34 m) Surface elevation 3,224 metres (10,577 ft)[1] Prince Saiful Malook and Badri Jamala The Lake Saiful Muluk is named after a legendary prince. A fairy tale called Saif-ul-Muluk, written by the Sufi poet Mian Muhammad Bakhsh, talks of the lake. It tell...
ہسپتال میں بستر مرگ پر وہ لاوارثوں کی طرح پڑی تھی. اسے معلوم تھا کہ وہ زندگی کی آخری چند سانسیں لے رہی ہے. نیم بے ہوشی کی حالت میں وہ اپنی زندگی کے دلکش اور تلخ لمحات کو یاد کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگ رہی تھی. تسلسل کے ساتھ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے. کچھ تھا جو اس کے اندر توڑ پھوڑ کر رہا تھا. ایک وقت تھا جب وہ گھر میں اکلوتی ہونے کی وجہ سے سب کو بہت پیاری تھی. اسے نہیں یاد پڑتا کہ اس کی کوئی خواہش ایسی تھی جو پوری نہ ہوئی ہو. وہ اس کی زندگی کے خوبصورت ترین لمحے تھے. جوانی کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے وہ پہلے سے زیادہ نکھرتی اور کِھلتی جارہی تھی، بالکل کسی "مہکتی کلی" کی طرح... پر کسی کو اس دردناک حقیقت سے آشنائی نہ تھی کہ مہکتی کلیوں کو لوگ اپنے ہاتھوں کچل دیتے ہیں...
اپنے شہر کی سب سے اچھی یونیورسٹی میں داخلہ لینا اس کا خواب تھا جو اس کے بھائیوں نے حقیقت میں بدل دیا. کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اس کے خواب کی تعبیر اتنی پراسرار ہو گی... سب کی مدد کرنا اور کام آنا اسے بہت پسند تھا.وہ کلاس میں بھی سب کی مدد کیا کرتی تھی لیکن اس دوران وہ کب کلاس کے اک آوارہ لڑکے کے عشق میں گرفتار ہو گئ اسے خود بھی خبر نہ ہوئی. وہ روزانہ اس سے بات کرنے کا انتظار کرتی،اسے دیکھنے کے لیے بےتاب رہتی...اسے پتا تھا کہ اس کے گھر والے کھبی ایسے لڑکے کو داماد کے طور پر قبول نہیں کریں گے. اس لڑکے نے اسکے ساتھ محبت کا ڈھونگ رچایا اور پھر اسے گھر سے بھاگ کے شادی کرنے پر مجبور کر دیا.
قیامت ڈھا دینے والی صبح تھی وہ جب آخری دفعہ اس نے سب کو اللہ حافظ کہا اور گھر کی دہلیز کو پار کر کے باپ اور بھائیوں کی عزت کو رونددیا.
کورٹ میرج کرنے کے بعد وہ اسے ایک بوسیدہ گھر میں لے آیا. شادی کے شروع کے دن اسے بہت دلکش لگے. اپنی غلطی کا زرا احساس نہ ہوا.وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس لڑکے کا رویہ بدلنے لگا اور پھر اُس نے بات بات پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا. اسے ماں باپ اور بھائیوں کا لاڈ پیار یاد آنے لگا. اس کے خاوند نے کھانے پینے پر اسے طعنے دینے شروع کر دیےجس کی وجہ سے اس نے کھانا پینا بہت کم کر دیا تھااسکی خوبصورتی میں بھی کمی آتی جارہی تھی.اس کا دل خون کے آنسو روتا تھا لیکن بے-بس تھی وہ کیونکہ یہ اس کا اپنا فیصلہ تھا.فاقے کاٹنے ان سب کا اس کی صحت پر بہت اثر پڑ رہا تھا . شام کو جب اسکا خاوند گھر آیا تو دیکھا کہ وہ زمین پر بےسود پڑی تھی. اسے ہسپتال پہنچایا گیا جس کے بعد ڈاکٹرز نے اس پر ایڈز AIDS کی بیماری کا انکشاف کیا. یہ سن کر اس کے خاوند کے ہواس خطا ہو گئے. بہت دیر سوچنے کے بعد وہ اسے ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان لڑتا ہوا چھوڑ آیا...
آج ہسپتال میں اسے اٹھارہوا دن تھا اور وہ لاوارثوں کی طرح پڑی بےبس اور بےجان دل کے ساتھ یہ دعا کر رہی تھی کہ کسی طرح اس کی سانسوں کا یہ تسلسل ٹوٹے اور وہ زمین میں دھنس جائے.....
جس کے لے وہ سب کچھ چھوڑ کر آئی تھی وہ ہی اسے چھوڑ گیا تھا...
آخر کار مرجھا گئ وہ مہکتی کلی 💔💔💔
از قلم ندا نثار ❤️
👌👌🔥🥺Kamal
ReplyDeleteBitter reality😓
ReplyDeleteReality based story
ReplyDelete