آج کل لوگ سب سے تعلق توڑ کر اپنی زندگی کو بہتر بنانے میں لگے ہوئے ہیں... لوگ اس بات کو نظر انداز کیے ہوئے ہیں کہ جن رشتوں کو اللہ تعالیٰ نے تخلیق کیا ہے ان کے بغیر زندگی کیسے *خوبصورت* ہو سکتی ہے....؟؟؟
کوئی شخص چاہے ان رشتوں سے کٹ کے کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے آخر میں بھاگتا انہی رشتوں کی چاہ میں ہے...
یہ حقیقت ہے کہ یہ رشتے بیزار بہت کرتے ہیں لیکن زندگی میں خوشیاں بھی انہی سے ہوتی ہیں...
ہم اکثر سنتے ہیں کہ وقت ہر غم کا مداوا کرتا ہے.، اس بات سے انکار تو نہیں کیا جاسکتا....
لیکن جو دکھ، تکالیف ہمیں اپنوں سے ملی ہوئی ہوں میرے خیال میں وقت گزرنے کے بعد بھی نہیں ان تکالیف کا مداوا نہیں ہوسکتا ...
مشکل وقت میں نام نہاد کے عزیز رشتوں کی باتیں جو آپ کا سینہ چھلنی کرکے رکھ دیں، وہ رشتے جو آپ کی عزت نفس کی پرواہ کیے بغیر اپنے تلخ لفظوں کے تیر آپ پر چلائیں...ایسے وقت میں موت کو گلے لگانا آپ کو آسان لگے... انہیں لمحوں میں صبر کر کے جینے کو زندگی کہتے ہیں...
قدرت کے اس قانون سے میرا خیال ہے سب ہی واقف ہوں گے کہ
پتھر ہمیشہ پھل دار درخت کو ہی مارے جاتے... کبھی سنا ہے کسی بے پھل درخت پر پتھر برسائے گئے؟؟؟
میرے خیال میں انسان کو اپنوں سے ملنے والی چوٹوں پر ہمیشہ صبر کرنا چاہیے، برداشت کرنا چاہیے، نظر انداز کرنا چاہیے...
نبی پاک صل اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زندگی میں جو کچھ برداشت کیا میرا نہیں خیال کہ ہماری زندگی میں جو کٹھن حالات آتے وہ اُن کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتے ہوں گے؟؟؟
ہم یہ بات نہیں سمجھتے کہ مکہ کی سختیاں جھیلنے کے بعد ہی مدینے جیسا سکون نصیب ہوتا ہے....
ااس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کبھی کبھی یہ خونی رشتے اجیرن کر دیتے ہیں....
لیکن وہ جو اوپر انصاف کرنے والا بیٹھا ہوا ہے اگر وہ چاہتا تو یہ رشتے تخلیق ہی نا کرتا... وہ چاہتا تو ہر انسان کو رشتوں کے بغیر ہی تخلیق کرتا...
انسان یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ پاک کچھ سوچ کر ہی اسے رشتوں کی ڈور سے باندھتا ہے....
ہم انسان ہی ہیں جو جیتے جی رشتوں کی قدر نہیں کرتے اور جب ہمارے اپنے ہمیشہ کے لئے آنکھیں موندھ لیتے ہیں تو ہم محبتوں کے ٹوکرے اٹھائے ان کی میتوں پر نچھاور کرنے پہنچ جاتے ہیں...
اور جانتے ہو اس وقت ہمارے ہاتھ میں کیا رہ جاتا ہے؟؟؟
پچھتاوا صرف پچھتاوا....
پچھتاوا ایک ایسا چوٹ ہے جس کا کوئی ظاہری زخم نہیں ہوتا پر یہ انسان ایک ان دیکھے کرب میں مبتلا رکھتا ہے اس وقت کسی سے شکایت بھی کرنے کے قابل نہیں ہوتا اور نہ ہی اپنا دکھ کسی سے بانٹ سکتا ہے..ک
انسان جب اللہ کی نعمتوں کی قدر نہیں کرتا تو اس سے چھین لی جاتی ہیں وہ تمام نعمتیں....
اور میرے خیال میں یہ اللہ کے بنائے ہوئے رشتے کسی نعمت سے کم نہیں...
قدر کیجیے خدا کی دی ہوئی نعمتوں کی.... :)ندا نثار
💯♥️😍🔥🔥🥀👌🏻
ReplyDeleteSuperb💥❤👌
ReplyDeleteKiya kehny hn 🔥🔥💯🔥
ReplyDeleteبھترین 😍
ReplyDelete❤
ReplyDeleteHeart touching..
ReplyDelete💓
ReplyDeleteIndeed 👌
ReplyDeleteIndeed 👌
ReplyDeleteIndeed 👌
ReplyDeleteV nice
ReplyDeleteRite
ReplyDeleteAbsolutely right
ReplyDeleteAllawwww💥❤
ReplyDelete💯% right
ReplyDeleteDeep 👌💓
ReplyDelete🌹🌹
ReplyDeleteAgar koe smjhy tow......
ReplyDeleteGreat yrrrr....
Masha Allah..
But aj kl ky rishtoo ko koe nh pouchta ku ky khon safeed ho chuky haw.....
Mind blowing well done writer
ReplyDeleteMashAllah Allah Pak kamyab kry ❤❤
ReplyDeleteNice
ReplyDeleteWah
ReplyDeletebhtttt khooob😍😍😍
ReplyDeletekubhi kubhar khoni rishtay bhtt hid tak chot phncha daitay hain Allah humain sabar dain or unko hidayat.😍😍
ReplyDeleteG بالکل
ReplyDelete😍
ReplyDeleteBohat zaberdast likha hai ap nay rishtoon k baray main shyad is say behter kuch or nahi likha ja sakta
ReplyDeleteInspired 😍
ReplyDelete