. اور تمھاری آخری منزل اللہ ہے... Skip to main content

Lake of Fairies

  Saiful Muluk (Urdu: جھیل سیف الملوک) is a mountainous lake located at the northern end of the Kaghan Valley, near the town of Naran in the Saiful Muluk National Park. At an elevation of 3,224 m (10,578 feet) above sea level, the lake is located above the tree line, and is one of the highest lakes in Pakistan. Lake Saiful Muluk Lake Saif ul Malook - Naran.jpg The lake is notable for its picturesque setting in the mountains of northern Pakistan Lake Saiful Muluk is located in Khyber PakhtunkhwaLake Saiful MulukLake Lake type Alpine, glacial lake Primary inflows Glacial water Primary outflows Stream (a tributary of Kunhar River) Basin countries Pakistan Surface area 2.75 km2 (1.06 sq mi) Max. depth 113 ft (34 m) Surface elevation 3,224 metres (10,577 ft)[1]  Prince Saiful Malook and Badri Jamala The Lake Saiful Muluk is named after a legendary prince. A fairy tale called Saif-ul-Muluk, written by the Sufi poet Mian Muhammad Bakhsh, talks of the lake. It tell...

اور تمھاری آخری منزل اللہ ہے...

وہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئی تھی.. آنکھ کھولتے ہی ہر خواہش پوری ہونے نے اصل دینے والی ذات کی ہی پہچان نہیں کروائی... 

امیری نے اسے کبھی کچھ مانگنا ہی نہیں سکھایا اپنے رب سے اور نہ وہ جانتی تھی کہ کیسا مانگا جاتا ہے اس پاک ذات سے... 

وہ جب قرآن پڑھنے جایا کرتی تھی تو اک آیت کا ترجمہ اس نے پڑھا تھا جو اسے سمجھ تو نہیں آیا تھا پر وہ اس کے دماغ میں بیٹھ گیا تھا... 



جب وہ چھوٹی تھی رشتوں کی محبت کی بہت قائل ہوا کرتی تھی..... 

دنیاوی ہوس اور رشتوں سے بے انتہا محبت نے اسے خالقِ حقیقی سے کبھی محبت کا احساس ہی نہیں دلایا... وقت کا پہیہ آہستہ آہستہ گھومتا ہوا اس کی زندگی کو بھی گھوما دے گا اسے اندازہ نہیں تھا...وہ اس بات سے بے خبر تھی اللہ عزوجل کو چھوڑ کر کھبی کوئی محبت نہ حاصل ہوتی ہے اور نہ فائدہ دیتی ہے... خیر اپنوں کی محبت کے مان نے اسے جس طرح عرش پر پہنچایا تھا... یہی مان اسے بےدردانہ طریقے سے فرش پر پٹخے گا اس نے کبھی  سوچا نہیں تھا...

وہ نادان لڑکی یہ بات کہاں جانتی تھی کہ "اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت کو زوال ہوتا ہے... اس کی محبت کے عروج کے زوال کا وقت آن پہنچا تھا... اسے یہ بات ٹھوکر کھانے کے بعد سمجھ میں آئی کہ زندگی کی کتاب کو پڑھانے میں وقت سے زیادہ اچھا استاد کوئی نہیں ہوتا"..جن رشتوں اور دنیاوی زندگی نے اسے کبھی اللہ کے در پر نہیں جانے دیا تھا انہیں کے دیے ہوئے زخموں کو بھرنے کے لیے وہ اللہ کے پاس اوندھے منہ جائے گی ایسا اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا.... 

اس کی امیری کب غریبی میں بدلی وہ اس کو سمجھنے سے قاصر تھی... 

وہ یہ بات نہیں سمجھتی تھی کہ وقت کی چکی چلتی ضرور آہستہ آہستہ ہے پر اس میں ہر کوئی پستا ہے اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا... 

وقت نے اسے منافق رشتوں کا اصلی چہرہ اپنے والدین کی غریبی پر آئینے کی طرح دکھا دیا... وہ تو اکثر یہ سوچ کر سکتے میں چلی جاتی تھی کہ یہ وہی لوگ ہیں جن سے ہمیشہ خلوص کے ساتھ چلی وہ لیکن جب اسے کسی دلاسے کی ضرورت پڑی تو انہیں نام نہاد کے رشتوں نے منہ موڑ لیا اور کسی نے دھتکارا... آج وہ خالی ہاتھ لیے بس اس بات کو سوچتی رہ گئی تھی کہ جن رشتوں کی محبت میں ڈوب کر وہ اللہ کو بھول گئی تھی، ہمیشہ عزت دی جنہیں اب وہی اسے ٹھوکر مار رہے تھے ...

اور یہ ٹھوکریں جانتے ہو اسے کہاں لے گئی تھی؟؟؟ یہ ٹھوکریں اسے وہاں لے گئی تھی جو اس کی آخری منزل تھی... اور آج 22 سال کی عمر میں اسے وہ آیت سمجھ آگئی جو اس کے دل و دماغ میں 7 کی عمر سے تھی... 

کچی عمر میں وہ رویوں کی تپش کو نہیں سمجھتی تھی لیکن اب وہ جب اپنے حال اور ماضی کا موازنہ کرتی ہے تو اس کی روح تک گھائل ہوتی ہے... 

وہ یہ بھی جان گئی کہ عرش صرف رب کائنات ہی کے لیے ہے، انسانوں کے لیے نہیں ...انسان زمین پر رہنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے... انسان جب اڑنے کی کوشش کرے گا تو ایسے ہی منہ کے بل پٹخ دیا جائے گا جیسے آج وہ روندھ دی گئی تھی...ندا نثار ❤️




Comments

  1. Inspiring 👏👏👏👏👏👏👏

    ReplyDelete
  2. Beshak
    hmen thokar lgne k bd he smjh ati

    ReplyDelete

Post a Comment